touheedosunnat

Just another WordPress.com site

باب : اس بیان میں کہ جس شخص سے علم کی کوئی بات پوچھی جائے

پر اپریل 27, 2013
صحیح بخاری
کتاب العلم
  
وهو مشتغل في حديثه فأتم الحديث ثم أجاب السائل

اور وہ اپنی کسی دوسری بات میں مشغول ہو پس (ادب کا تقاضا ہے کہ) وہ پہلے اپنی بات پوری کر لے پھر پوچھنے والے کو جواب دے۔

 
حدیث نمبر: 59
 
حدثنا محمد بن سنان،‏‏‏‏ قال حدثنا فليح،‏‏‏‏ ح وحدثني إبراهيم بن المنذر،‏‏‏‏ قال حدثنا محمد بن فليح،‏‏‏‏ قال حدثني أبي قال،‏‏‏‏ حدثني هلال بن علي،‏‏‏‏ عن عطاء بن يسار،‏‏‏‏ عن أبي هريرة،‏‏‏‏ قال بينما النبي صلى الله عليه وسلم في مجلس يحدث القوم جاءه أعرابي فقال متى الساعة فمضى رسول الله صلى الله عليه وسلم يحدث،‏‏‏‏ فقال بعض القوم سمع ما قال،‏‏‏‏ فكره ما قال،‏‏‏‏ وقال بعضهم بل لم يسمع،‏‏‏‏ حتى إذا قضى حديثه قال ‏”‏ أين ـ أراه ـ السائل عن الساعة ‏”‏‏.‏ قال ها أنا يا رسول الله‏.‏ قال ‏”‏ فإذا ضيعت الأمانة فانتظر الساعة ‏”‏‏.‏ قال كيف إضاعتها قال ‏”‏ إذا وسد الأمر إلى غير أهله فانتظر الساعة ‏”‏‏.‏

‏‏

ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، کہا ہم سے فلیح نے بیان کیا (دوسری سند) اور مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے باپ (فلیح) نے بیان کیا، کہا ہلال بن علی نے، انھوں نے عطاء بن یسار سے نقل کیا، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ ایک بار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں بیٹھے ہوئے ان سے باتیں کر رہے تھے۔ اتنے میں ایک دیہاتی آپ کے پاس آیا اور پوچھنے لگا کہ قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی گفتگو میں مصروف رہے۔ بعض لوگ (جو مجلس میں تھے) کہنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیہاتی کی بات سنی لیکن پسند نہیں کی اور بعض کہنے لگے کہ نہیں بلکہ آپ نے اس کی بات سنی ہی نہیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی باتیں پوری کر چکے تو میں سمجھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا وہ قیامت کے بارے میں پوچھنے والا کہاں گیا اس (دیہاتی) نے کہا (حضور) میں موجود ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب امانت (ایمانداری دنیا سے) اٹھ جائے تو قیامت قائم ہونے کا انتظار کر۔ اس نے کہا ایمانداری اٹھنے کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب (حکومت کے کاروبار) نالائق لوگوں کو سونپ دئیے جائیں تو قیامت کا انتظار کر۔
 
  • Narrated Abu Hurairah: While the Prophet was saying something in a gathering, a Bedouin came and asked him, “When would the Hour (Doomsday) take place?” Allah’s Apostle continued his talk, so some people said that Allah’s Apostle had heard the question, but did not like what that Bedouin had asked. Some of them said that Allah’s Apostle had not heard it. When the Prophet finished his speech, he said, “Where is the questioner, who inquired about the Hour (Doomsday)?” The Bedouin said, “I am here, O Allah’s Apostle .” Then the Prophet said, “When honesty is lost, then wait for the Hour (Doomsday).” The Bedouin said, “How will that be lost?” The Prophet said, “When the power or authority comes in the hands of unfit persons, then wait for the Hour (Doomsday.)”
   
   

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: