touheedosunnat

Just another WordPress.com site

باب : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ دین سچے دل سے اللہ کی فرمانبرداری اور اس کے رسول اور مسلمان حاکموں اور تمام مسلمانوں کی خیرخواہی کا نام ہے

پر اپریل 27, 2013
صحیح بخاری
کتاب الایمان
 
 
حدیث نمبر: 57
 
 
حدثنا مسدد،‏‏‏‏ قال حدثنا يحيى،‏‏‏‏ عن إسماعيل،‏‏‏‏ قال حدثني قيس بن أبي حازم،‏‏‏‏ عن جرير بن عبد الله،‏‏‏‏ قال بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم على إقام الصلاة،‏‏‏‏ وإيتاء الزكاة،‏‏‏‏ والنصح لكل مسلم‏.‏

‏‏

 
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انھوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید بن قطان نے بیان کیا، انھوں نے اسماعیل سے، انھوں نے کہا مجھ سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا، انھوں نے جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے سنا، انھوں نے کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کی خیرخواہی کرنے پر بیعت کی۔
 
  • Narrated Jarir bin Abdullah: I gave the pledge of allegiance to Allah’s Apostle for the following: 1. offer prayers perfectly 2. pay the Zakat (obligatory charity) 3. and be sincere and true to every Muslim.
 
حدیث نمبر: 58
 
حدثنا أبو النعمان،‏‏‏‏ قال حدثنا أبو عوانة،‏‏‏‏ عن زياد بن علاقة،‏‏‏‏ قال سمعت جرير بن عبد الله،‏‏‏‏ يقول يوم مات المغيرة بن شعبة قام فحمد الله وأثنى عليه وقال عليكم باتقاء الله وحده لا شريك له،‏‏‏‏ والوقار والسكينة حتى يأتيكم أمير،‏‏‏‏ فإنما يأتيكم الآن،‏‏‏‏ ثم قال استعفوا لأميركم،‏‏‏‏ فإنه كان يحب العفو‏.‏ ثم قال أما بعد،‏‏‏‏ فإني أتيت النبي صلى الله عليه وسلم قلت أبايعك على الإسلام‏.‏ فشرط على والنصح لكل مسلم‏.‏ فبايعته على هذا،‏‏‏‏ ورب هذا المسجد إني لناصح لكم‏.‏ ثم استغفر ونزل‏.‏

‏‏

ہم سے ابونعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، انھوں نے زیاد سے، انھوں نے علاقہ سے، کہا میں نے جریر بن عبداللہ سے سنا جس دن مغیرہ بن شعبہ (حاکم کوفہ) کا انتقال ہوا تو وہ خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور اللہ کی تعریف اور خوبی بیان کی اور کہا تم کو اکیلے اللہ کا ڈر رکھنا چاہیے اس کا کوئی شریک نہیں اور تحمل اور اطمینان سے رہنا چاہیے اس وقت تک کہ کوئی دوسرا حاکم تمہارے اوپر آئے اور وہ ابھی آنے والا ہے۔ پھر فرمایا کہ اپنے مرنے والے حاکم کے لیے دعائے مغفرت کرو کیونکہ وہ (مغیرہ) بھی معافی کو پسند کرتا تھا پھر کہا کہ اس کے بعد تم کو معلوم ہونا چاہیے کہ میں ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا کہ میں آپ سے اسلام پر بیعت کرتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ہر مسلمان کی خیرخواہی کے لیے شرط کی، پس میں نے اس شرط پر آپ سے بیعت کر لی (پس) اس مسجد کے رب کی قسم کہ میں تمہارا خیرخواہ ہوں پھر استغفار کیا اور منبر سے اتر آئے۔
 
  • Narrated Ziyad bin’Ilaqa: I heard Jarir bin Abdullah (Praising Allah). On the day when Al-Mughira bin Shu’ba died, he (Jarir) got up (on the pulpit) and thanked and praised Allah and said, “Be afraid of Allah alone Who has none along with Him to be worshipped.(You should) be calm and quiet till the (new) chief comes to you and he will come to you soon. Ask Allah’s forgiveness for your (late) chief because he himself loved to forgive others.” Jarir added, “Amma badu (now then), I went to the Prophet and said, ‘I give my pledge of allegiance to you for Islam.” The Prophet conditioned (my pledge) for me to be sincere and true to every Muslim so I gave my pledge to him for this. By the Lord of this mosque! I am sincere and true to you (Muslims). Then Jarir asked for Allah’s forgiveness and came down (from the pulpit).
   

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: