touheedosunnat

Just another WordPress.com site

باب : مومن کو ڈرنا چاہیے کہ کہیں اس کے اعمال مٹ نہ جائیں اور اس کو خبر تک نہ ہو

پر مارچ 31, 2013
صحیح بخاری
کتاب الایمان

وقال إبراهيم التيمي ما عرضت قولي على عملي إلا خشيت أن أكون مكذبا‏.‏ وقال ابن أبي مليكة أدركت ثلاثين من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم كلهم يخاف النفاق على نفسه،‏‏‏‏ ما منهم أحد يقول إنه على إيمان جبريل وميكائيل‏.‏ ويذكر عن الحسن ما خافه إلا مؤمن،‏‏‏‏ ولا أمنه إلا منافق‏.‏ وما يحذر من الإصرار على النفاق والعصيان من غير توبة لقول الله تعالى ‏ {‏ ولم يصروا على ما فعلوا وهم يعلمون‏}‏

اور ابراہیم تیمی (واعظ) نے کہا میں نے اپنے گفتار اور کردار کو جب ملایا، تو مجھ کو ڈر ہوا کہ کہیں میں شریعت کے جھٹلانے والے (کافروں) سے نہ ہو جاؤں اور ابن ابی ملیکہ نے کہا کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تیس صحابہ سے ملا، ان میں سے ہر ایک کو اپنے اوپر نفاق کا ڈر لگا ہوا تھا، ان میں کوئی یوں نہیں کہتا تھا کہ میرا ایمان جبرائیل و میکائیل کے ایمان جیسا ہے اور حسن بصری سے منقول ہے، نفاق سے وہی ڈرتا ہے جو ایماندار ہوتا ہے اور اس سے نڈر وہی ہوتا ہے جو منافق ہے۔ اس باب میں آپس کی لڑائی اور گناہوں پر اڑے رہنے اور توبہ نہ کرنے سے بھی ڈرایا گیا ہے۔ کیونکہ اللہ پاک نے سورۃ آل عمران میں فرمایا: ’’ اور اپنے برے کاموں پر جان بوجھ کر وہ اڑا نہیں کرتے ‘‘۔

 
حدیث نمبر: 48
 
 
حدثنا محمد بن عرعرة،‏‏‏‏ قال حدثنا شعبة،‏‏‏‏ عن زبيد،‏‏‏‏ قال سألت أبا وائل عن المرجئة،‏‏‏‏،‏‏‏‏ فقال حدثني عبد الله،‏‏‏‏ أن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏”‏ سباب المسلم فسوق،‏‏‏‏ وقتاله كفر ‏”‏‏.

‏‏.

 
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انھوں نے زبید بن حارث سے، کہا میں نے ابووائل سے مرجیہ کے بارے میں پوچھا، (وہ کہتے ہیں گناہ سے آدمی فاسق نہیں ہوتا) انھوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کو گالی دینے سے آدمی فاسق ہو جاتا ہے اور مسلمان سے لڑنا کفر ہے۔
 
  • Narrated Abdullah: The Prophet said, “Abusing a Muslim is Fusuq (an evil doing) and killing him is Kufr (disbelief).”
 
حدیث نمبر: 49
 
أخبرنا قتيبة بن سعيد،‏‏‏‏ حدثنا إسماعيل بن جعفر،‏‏‏‏ عن حميد،‏‏‏‏ عن أنس،‏‏‏‏ قال أخبرني عبادة بن الصامت،‏‏‏‏ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج يخبر بليلة القدر،‏‏‏‏ فتلاحى رجلان من المسلمين فقال ‏”‏ إني خرجت لأخبركم بليلة القدر،‏‏‏‏ وإنه تلاحى فلان وفلان فرفعت وعسى أن يكون خيرا لكم التمسوها في السبع والتسع والخمس ‏”‏‏.‏
‏‏.
 
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، انھوں نے حمید سے، انھوں نے انس رضی اللہ عنہ سے، کہا مجھ کو عبادہ بن صامت نے خبر دی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے سے نکلے، لوگوں کو شب قدر بتانا چاہتے تھے (وہ کون سی رات ہے) اتنے میں دو مسلمان آپس میں لڑ پڑے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں تو اس لیے باہر نکلا تھا کہ تم کو شب قدر بتلاؤں اور فلاں فلاں آدمی لڑ پڑے تو وہ میرے دل سے اٹھا لی گئی اور شاید اسی میں کچھ تمہاری بہتری ہو۔ (تو اب ایسا کرو کہ) شب قدر کو رمضان کی ستائیسویں، انتیسویں و پچیسویں رات میں ڈھونڈا کرو۔
 

Narrated Ubada bin As-Samit: “Allah’s Apostle went out to inform the people about the (date of the) night of decree (Al-Qadr) but there happened a quarrel between two Muslim men. The Prophet said, “I came out to inform you about (the date of) the night of Al-Qadr, but as so and so and so and so quarrelled, its knowledge was taken away (I forgot it) and maybe it was better for you. Now look for it in the 7th, the 9th and the 5th (of the last 10 nights of the month of Ramadan).”

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: