touheedosunnat

Just another WordPress.com site

اپنے والدین کو گالیاں مت دلوائیں!

اپنے والدین کو گالیاں مت دلوائیں!

تبصرہ کیجیے »

احمق کا صاحب اختیار بن جانا

احمق کا صاحب اختیار بن جانا

تبصرہ کیجیے »

مزاق میں جھوٹ

مزاق میں جھوٹ

تبصرہ کیجیے »

مسنون ازکار

تصویر

تبصرہ کیجیے »

ماں باپ کو گالی

تصویر

تبصرہ کیجیے »

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

تصویر

تبصرہ کیجیے »

مزاق میں بھی جھوٹ، ہلاکت (حدیث کی روشنی میں)

تصویر

تبصرہ کیجیے »

دنیا میں گناہوں کی سزا: حدیث کی روشنی میں

دنیا میں گناہوں کی سزا: حدیث کی روشنی میں

تبصرہ کیجیے »

باب : وہ شخص جو مجلس کے آخر میں بیٹھ جائے اور وہ شخص جو درمیان میں جہاں جگہ دیکھے بیٹھ جائے (بشرطیکہ دوسروں کو تکلیف نہ ہو)

صحیح بخاری
کتاب العلم

 
حدیث نمبر: 66
 
 
حدثنا إسماعيل،‏‏‏‏ قال حدثني مالك،‏‏‏‏ عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة،‏‏‏‏ أن أبا مرة،‏‏‏‏ مولى عقيل بن أبي طالب أخبره عن أبي واقد الليثي،‏‏‏‏ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بينما هو جالس في المسجد والناس معه،‏‏‏‏ إذ أقبل ثلاثة نفر،‏‏‏‏ فأقبل اثنان إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وذهب واحد،‏‏‏‏ قال فوقفا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فأما أحدهما فرأى فرجة في الحلقة فجلس فيها،‏‏‏‏ وأما الآخر فجلس خلفهم،‏‏‏‏ وأما الثالث فأدبر ذاهبا،‏‏‏‏ فلما فرغ رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ‏”‏ ألا أخبركم عن النفر الثلاثة أما أحدهم فأوى إلى الله،‏‏‏‏ فآواه الله،‏‏‏‏ وأما الآخر فاستحيا،‏‏‏‏ فاستحيا الله منه،‏‏‏‏ وأما الآخر فأعرض،‏‏‏‏ فأعرض الله عنه ‏”‏‏.‏

‏‏

 
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ان سے مالک نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ کے واسطے سے ذکر کیا، بیشک ابومرہ مولیٰ عقیل بن ابی طالب نے انہیں ابوواقد اللیثی سے خبر دی کہ (ایک مرتبہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے کہ تین آدمی وہاں آئے (ان میں سے) دو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پہنچ گئے اور ایک واپس چلا گیا۔ (راوی کہتے ہیں کہ) پھر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ اس کے بعد ان میں سے ایک نے (جب) مجلس میں (ایک جگہ کچھ) گنجائش دیکھی، تو وہاں بیٹھ گیا اور دوسرا اہل مجلس کے پیچھے بیٹھ گیا اور تیسرا جو تھا وہ لوٹ گیا۔ تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اپنی گفتگو سے) فارغ ہوئے (تو صحابہ رضی اللہ عنہم سے) فرمایا کہ کیا میں تمہیں تین آدمیوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ تو (سنو) ان میں سے ایک نے اللہ سے پناہ چاہی اللہ نے اسے پناہ دی اور دوسرے کو شرم آئی تو اللہ بھی اس سے شرمایا (کہ اسے بھی بخش دیا) اور تیسرے شخص نے منہ موڑا، تو اللہ نے (بھی) اس سے منہ موڑ لیا۔
 
  • Narrated Abu Waqid Al-Laithi: While Allah’s Apostle was sitting in the mosque with some people, three men came. Two of them came in front of Allah’s Apostle and the third one went away. The two persons kept on standing before Allah’s Apostle for a while and then one of them found a place in the circle and sat there while the other sat behind the gathering, and the third one went away. When Allah’s Apostle finished his preaching, he said, “Shall I tell you about these three persons? One of them betook himself to Allah, so Allah took him into His grace and mercy and accommodated him, the second felt shy from Allah, so Allah sheltered Him in His mercy (and did not punish him), while the third turned his face from Allah and went away, so Allah turned His face from him likewise. “
   
تبصرہ کیجیے »

باب : شاگرد کا استاد کے سامنے پڑھنا اور اس کو سنانا

صحیح بخاری
کتاب العلم 
 
 
حدیث نمبر: 61
 
 
ورأى الحسن والثوري ومالك القراءة جائزة،‏‏‏‏ واحتج بعضهم في القراءة على العالم بحديث ضمام بن ثعلبة قال للنبي صلى الله عليه وسلم آلله أمرك أن نصلي الصلوات قال ‏”‏ نعم ‏”‏‏.‏ قال فهذه قراءة على النبي صلى الله عليه وسلم أخبر ضمام قومه بذلك فأجازوه‏.‏ واحتج مالك بالصك يقرأ على القوم فيقولون أشهدنا فلان‏.‏ ويقرأ ذلك قراءة عليهم،‏‏‏‏ ويقرأ على المقرئ فيقول القارئ أقرأني فلان‏.‏
حدثنا محمد بن سلام حدثنا محمد بن الحسن الواسطي عن عوف عن الحسن قال لا بأس بالقراءة على العالم‏.‏ وأخبرنا محمد بن يوسف الفربري وحدثنا محمد بن إسماعيل البخاري قال حدثنا عبيد الله بن موسى عن سفيان قال إذا قرئ على المحدث فلا بأس أن يقول حدثني‏.‏ قال وسمعت أبا عاصم يقول عن مالك وسفيان القراءة على العالم وقراءته سواء‏.‏

‏‏

 
اور امام حسن بصری اور سفیان ثوری اور مالک نے شاگرد کے پڑھنے کو جائز کہا ہے اور بعض نے استاد کے سامنے پڑھنے کی دلیل ضمام بن ثعلبہ کی حدیث سے لی ہے۔ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تھا کہ کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم فرمایا ہے کہ ہم لوگ نماز پڑھا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں۔ تو یہ (گویا) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھنا ہی ٹھہرا۔ ضمام نے پھر جا کر اپنی قوم سے یہ بیان کیا تو انھوں نے اس کو جائز رکھا۔ اور امام مالک نے دستاویز سے دلیل لی جو قوم کے سامنے پڑھ کر سنائی جاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم کو فلاں شخص نے دستاویز پر گواہ کیا اور پڑھنے والا پڑھ کر استاد کو سناتا ہے پھر کہتا ہے مجھ کو فلاں نے پڑھایا۔

ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن حسن واسطی نے بیان کیا، کہا انھوں نے عوف سے، انھوں نے حسن بصری سے، انھوں نے کہا عالم کے سامنے پڑھنے میں کوئی قباحت نہیں۔ اور ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، انھوں نے سفیان ثوری سے سنا، وہ کہتے تھے جب کوئی شخص محدث کو حدیث پڑھ کر سنائے تو کچھ قباحت نہیں اگر یوں کہے کہ اس نے مجھ سے بیان کیا۔ اور میں نے ابوعاصم سے سنا، وہ امام مالک اور سفیان ثوری کا قول بیان کرتے تھے کہ عالم کو پڑھ کر سنانا اور عالم کا شاگردوں کے سامنے پڑھنا دونوں برابر ہیں۔
تبصرہ کیجیے »